ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کورونا وائرس آنکھوں کے ذریعہ بھی جسم میں داخل ہو سکتا ہے حفاظتی چشمے کا باقاعدہ استعمال کرنے ماہرین ِ امراضِ چشم کا مشورہ

کورونا وائرس آنکھوں کے ذریعہ بھی جسم میں داخل ہو سکتا ہے حفاظتی چشمے کا باقاعدہ استعمال کرنے ماہرین ِ امراضِ چشم کا مشورہ

Sun, 19 Apr 2020 12:29:46    S.O. News Service

بنگلورو،19؍ اپریل (ایس او  نیوز) ماہرینِ امرضِ چشم نے عوام کو متنبہ کیا ہے آنکھوں کے ذریعے کورونا وائرس کی منتقلی ہو سکتی ہے اور انہیں حفاظتی چشمے پہننے کا مشورہ دیا ہے۔

ایک حالیہ ویڈیو کانفرنس کے دوران، وزیربرائے طبی تعلیم ڈاکٹر کے سدھاکر نے ان ماہرین سے ٹرانسمیشن کے خطرے کے بارے میں دریافت کیا۔ ایک ماہرنے ویڈیو کانفرنس کے دوران کہا،”اب، لوگ ماسک پہنے ہوئے ناک اور منہ پر توجہ دے رہے ہیں اور آنکھوں کو نظرانداز کررہے ہیں۔ لیکن مائیکروڈراپلٹس (چھینٹے) آنکھوں میں بھی داخل ہوسکتے ہیں اوراس طرح کووڈ 19- انفیکشن پھیلنے کے خدشات موجود ہیں۔“

بنگلور آپتھالمک سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر جی وی دواکر نے کہا،”اگریہ چھینٹے آنکھوں تک پہنچ جاتے ہیں تو یقینی طور پر ان سے وائرس پھیل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم ماسک کے ساتھ آنکھوں کے حفاظتی چشمے پہننے کا مشورہ دے رہے ہیں۔“ماہرین نے اس مسئلے کو وزیر کے علم میں لایا اور درخواست کی کہ وہ ماہرین امراض چشم کو ہنگامی صورتوں میں شرکت کے لئے پرسنل پروٹیکشن ایکوپمنٹ (پی پی ای) مہیا کریں اور 3 مئی کے بعد موتیا اور دیگر سرجری دوبارہ شروع کریں۔فی الحال آپتھالمالوجی سے متعلق بیماریوں کے علاج معالجہ کوبھی اگلے احکامات تک موخر کردیا گیا ہے۔

ڈاکٹر دواکر نے کہا، ”ہم صرف ہنگامی معاملات کو ہی دیکھ رہے ہیں۔ دیگر خدمات بحال کرنے کے لئے ہمیں پی پی ای کٹس کی ضرورت ہے۔“ایک دیگر اسپتال سے تعلق رکھنے والے ایک اور ماہرنے کہا،”یہ وائرس صرف منہ، ناک یا چہرے کو چھونے سے ہی نہیں بلکہ آنکھوں میں بھی پھیلتا ہے۔جب کوئی متاثرہ شخص چھینک جاتا ہے یا کھانستاہے اور اگر اس سے نکلنے والے چھینٹے دوسرے شخص کی آنکھوں میں داخل ہوتے ہیں تو اسے بھی وائرس بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے ماسک کے ساتھ ساتھ چشمے پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔“منٹو اسپتال کی ڈائرکٹر، ڈاکٹر سوجاتا راٹھوڑنے کہا،”عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کے وبا کے دوران وائیزر (آنکھوں کی بھی حفاظت کرنے والے نقاب)پہنیں۔“


Share: